Friday, November 23, 2012
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
watch pakistani dramas online, hum tv dramas, geo tv dramas, ary digital dramas, pakistani talk shows
THE PAKISTAN TV Copyright © 2011 -- Template created by O Pregador -- Powered by Blogger
Mazrat Kay Sath - 23rd November 2012
معذرت کے ساتھ۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین۔ نیوز ون ۔۔ 23 نومبر 2012ء
موضوع: ڈی ایٹ کانفرنس
میزبان: سیفان خان
معرف مذہبی اسکالر ، محقق اور ہر دلعزیز ٹی وی میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے ٹی وی ون کے کرنٹ افیر کے پروگرام "معذرت کے ساتھ" میں میزبان سیفان خان کے سوالات کے جواب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ۔۔۔
ایران کے صدر کہتے ہیں کہ مسلمانوں سربراہوں کو ایک ہونا چاہئے۔ یہ ان کی اپنی تقریر ہے ضروری نہیں ہم بحیثیت پاکستانی یا مسلمان ان کی تقریر کے مندرجات سے اتفاق کریں۔ کہہ دینا بہت آسان ہے، ہمارے اپنی مشکلات ہیں، مسائل ہیں، دنیا کے ہر مسئلے میں پاکستان کو گھسیٹ لینا، کہ وہ غزہ پر بھی بولے، دیگر مسائل پر بھی بولے، ہمارے تو اپنے مسائل بہت ہیں، ہم کراچی کو سنبھال رہے ہیں۔ ہم اپنے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ یہ مشورہ بہت اچھا ہے جو انہوں نے دیا ہے کہ اسلامی ممالک اپنا ایک مضبوط بلاک بنائیں۔ یہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم اندرنی خلفشار کا شکار ہیں، اور اندر سے بہت کمزور ہیں، دشمن کو اتنا فائدہ باہر سے نہیں مل رہا جتنا وہ ہماری اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ہمیں پہلے اپنے اندر کی لڑائی لڑنی ہے۔
دیکھیے ساری ذمہ داری تو ہم علمائے کرام پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ بات صرف محرم الحرام میں قتل و غارت گری کی نہیں ہے۔ ایک ایک دن میں پچیس افراد مارے گیے ہیں۔ کراچی بین الاقوامی قوتوں کا مرکز ہے۔ کراچی میں قتل و غارت گری سے پورے پاکستان پر اثر پڑتا ہے۔ اس صرف علمائے کرام کے کردار سے کام نہیں چلے گا۔ یقینا علمائے کرام کو اپنا بھرپور کردار ادا کرناچاہئے۔ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ نے یہی پیغام دیا کہ علم کا جہالت سے مقابلہ نہیں ہے، اور علم کبھی جہالت کے آگے سرنگوں نہیں ہوگا۔ لہذا علماء کرام کا اولین فرض ہے کہ وہ کسی بھی جاہلانہ اقدام کی بھرپور مذمت کریں اور اپنے خطبات، تقاریر اور پندو نصائح کے ذریعے لوگوں کو اتحاد و اتفاق کی طرف راغب کریں، اتحاد، یکجہتی اور یگانگت کی طرف مائل کریں۔ اتحاد و امن کو پروان چڑھائیں اور میرا یقین ہے کہ علمائے کرام کی غالب اکثریت سے آپ یہی توقع کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے منفی کرادر سے ہم اکثریت کو نہیں جانچ سکتے۔ کراچی میں مذہبی، لسانی، فرقہ ورانہ بنیادوں پر قتل و غارت گری جاری ہے۔ یہاں جاری قتل و غارت گری کا تقابل آپ کوئٹہ یا راولپنڈی بم دھماکوں سے نہیں کر سکتے۔ کراچی میں تمام برائیوں کی بنیاد پر فسادات جاری ہیں، ہمارے لیے تو کراچی ہی غزہ بنا ہوا ہے، ہم اسے نظر انداز کر کے ڈی ایٹ کانفرنس میں لگے ہوئے ہیں۔
ہم بہت میچور لوگ ہیں، یہ سوال کہ فرقہ ورانہ فسادات کون کروا رہا ہے، یہ بچگانہ سوال ہے؟ کیا آپ بچے ہیں، جو خود کش حملہ آوروں کو نہیں جانتے۔ یہاں امریکی اور غیر ملکی تو نہیں آرہے۔ ہم خود اپنے آپ کو جلا رہے ہیں۔ ہمارے بینک، پیٹرول پمپ، گاڑیاں اور دکانیں امریکی آکر آگ نہیں لگا رہے۔ ہم خود اغیار کی سازشوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم خود کو حالات و واقعات کے حوالے کردیتے ہیں۔ امریکہ برطانیہ کو الزام دینا حقیقت سے نظریں چرانا اور شتر مرغ کی طرح آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
Mazrat Kay Sath - 23rd November 2012
معذرت کے ساتھ۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین۔ نیوز ون ۔۔ 23 نومبر 2012ء
موضوع: ڈی ایٹ کانفرنس
میزبان: سیفان خان
معرف مذہبی اسکالر ، محقق اور ہر دلعزیز ٹی وی میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے ٹی وی ون کے کرنٹ افیر کے پروگرام "معذرت کے ساتھ" میں میزبان سیفان خان کے سوالات کے جواب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ۔۔۔
ایران کے صدر کہتے ہیں کہ مسلمانوں سربراہوں کو ایک ہونا چاہئے۔ یہ ان کی اپنی تقریر ہے ضروری نہیں ہم بحیثیت پاکستانی یا مسلمان ان کی تقریر کے مندرجات سے اتفاق کریں۔ کہہ دینا بہت آسان ہے، ہمارے اپنی مشکلات ہیں، مسائل ہیں، دنیا کے ہر مسئلے میں پاکستان کو گھسیٹ لینا، کہ وہ غزہ پر بھی بولے، دیگر مسائل پر بھی بولے، ہمارے تو اپنے مسائل بہت ہیں، ہم کراچی کو سنبھال رہے ہیں۔ ہم اپنے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ یہ مشورہ بہت اچھا ہے جو انہوں نے دیا ہے کہ اسلامی ممالک اپنا ایک مضبوط بلاک بنائیں۔ یہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم اندرنی خلفشار کا شکار ہیں، اور اندر سے بہت کمزور ہیں، دشمن کو اتنا فائدہ باہر سے نہیں مل رہا جتنا وہ ہماری اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ہمیں پہلے اپنے اندر کی لڑائی لڑنی ہے۔
دیکھیے ساری ذمہ داری تو ہم علمائے کرام پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ بات صرف محرم الحرام میں قتل و غارت گری کی نہیں ہے۔ ایک ایک دن میں پچیس افراد مارے گیے ہیں۔ کراچی بین الاقوامی قوتوں کا مرکز ہے۔ کراچی میں قتل و غارت گری سے پورے پاکستان پر اثر پڑتا ہے۔ اس صرف علمائے کرام کے کردار سے کام نہیں چلے گا۔ یقینا علمائے کرام کو اپنا بھرپور کردار ادا کرناچاہئے۔ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ نے یہی پیغام دیا کہ علم کا جہالت سے مقابلہ نہیں ہے، اور علم کبھی جہالت کے آگے سرنگوں نہیں ہوگا۔ لہذا علماء کرام کا اولین فرض ہے کہ وہ کسی بھی جاہلانہ اقدام کی بھرپور مذمت کریں اور اپنے خطبات، تقاریر اور پندو نصائح کے ذریعے لوگوں کو اتحاد و اتفاق کی طرف راغب کریں، اتحاد، یکجہتی اور یگانگت کی طرف مائل کریں۔ اتحاد و امن کو پروان چڑھائیں اور میرا یقین ہے کہ علمائے کرام کی غالب اکثریت سے آپ یہی توقع کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے منفی کرادر سے ہم اکثریت کو نہیں جانچ سکتے۔ کراچی میں مذہبی، لسانی، فرقہ ورانہ بنیادوں پر قتل و غارت گری جاری ہے۔ یہاں جاری قتل و غارت گری کا تقابل آپ کوئٹہ یا راولپنڈی بم دھماکوں سے نہیں کر سکتے۔ کراچی میں تمام برائیوں کی بنیاد پر فسادات جاری ہیں، ہمارے لیے تو کراچی ہی غزہ بنا ہوا ہے، ہم اسے نظر انداز کر کے ڈی ایٹ کانفرنس میں لگے ہوئے ہیں۔
ہم بہت میچور لوگ ہیں، یہ سوال کہ فرقہ ورانہ فسادات کون کروا رہا ہے، یہ بچگانہ سوال ہے؟ کیا آپ بچے ہیں، جو خود کش حملہ آوروں کو نہیں جانتے۔ یہاں امریکی اور غیر ملکی تو نہیں آرہے۔ ہم خود اپنے آپ کو جلا رہے ہیں۔ ہمارے بینک، پیٹرول پمپ، گاڑیاں اور دکانیں امریکی آکر آگ نہیں لگا رہے۔ ہم خود اغیار کی سازشوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم خود کو حالات و واقعات کے حوالے کردیتے ہیں۔ امریکہ برطانیہ کو الزام دینا حقیقت سے نظریں چرانا اور شتر مرغ کی طرح آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
Renowned TV. Anchor, scholar and beloved celebrity of media Dr. Aamir liaquat hussain, while giving answers of the questions of host sufiyan khan of TV one’s current.
affairs program, “mazrat k saath”, have expressed his views that, Iran’s president said in his speech that all the Muslims of the world should be united, but as a Muslim and.
Pakistani, it is not at all necessary that we agree to his point of views, it is really easy to say anything but we have our own problems, have our own issues, to drag Pakistan.
in every problem to speak on, to express views on Gaza’s issue, to raise voice on other problems, it is too much, we have our own issues, we are taking care of Karachi and.
dealing with other issues, it is a good advice that all Muslim countries should form their one united block. We are a victim of internal confli
ct and are really weak; our.
enemies are not getting that much benefit as they are getting from the inner turmoil of our country so first we have to deal with it.
We can’t just put all the responsibilities on the religious clerics of our country and get ease from our duties, it is not only about the violence during the month of.
muharrum, the murder of 25 people in a day is a huge matter of concern, Karachi is a centre of international powers and activities, any turmoil and chaotic violence in.
Karachi made a huge bad impact on Pakistan. Although the role of the scholars and clerics is very much important but we should take other measures as well for it, Imam.
Aali muqaam Hussain (r.a) also said that there is no comparison between education and illetracy, and education will never lose in front of illiteracy, so it is the foremost.
duty of all the scholars and clerics that they preached the lesson of unity and peace in their sermons, teachings and urge the people towards peace and unity. we can’t
compare the negativity of few people with the optimism of others, as we can’t create any similarity between the target killings in Karachi due to sectarian issues and other.
and the bomb blasts in Rawalpindi and Quetta/ the killings is Karachi is going on due to every minor matter, we can’t ignore these problems just to give full concentration.
in D8 conference.
We are really mature enough, and the query that who is involved in all this violence and killings is really a childish, are we kids? ain’t we know about suicidal bombings?,
America and other external powers are not involved in it, we are burning our own banks, petrol pumps, properties and ruining our own country, America is not here to do.
so, we always get victimize of conspiracies of our fiends. We leave ourselves on the circumstances and situations, it is not adequate to accuse America and Britain over.
this, and it is not right to close our eyes like an ostrich over these issues is contradictory to reality.
For other videos and news, you may visit the official website of Dr. Aamir Liaquat Hussain www.aamirliaquat.com, follow on Twitter @aamirliaquat.